Pages

Subscribe:

Thursday, 17 May 2012

تمام شہر پہ آسیب سا مسلط ہے

تمام شہر پہ آسیب سا مسلط ہے
دھُواں دھُواں ہیں دریچے ہوا نہیں آتی
ہر ایک سمت سے چیخیں سنائ دیتی ہیں
صدائے ہم نفس و آشنا نہیں آتی
گھنے درخت ، درو بام ، نغمہ و فانوس
تمام سحر و طلسمات و سایہ و کابوس
ہر ایک راہ پر آوازِ پائے نا معلوم
ہر ایک موڑ پہ ارواحِ زِشت و بد کا جلوس
سفید چاند کی اجلی قبائے سیمیں پر
سیاہ و سرد کفن کا گماں گزرتا ہے
فَضا کے تخت پہ چمگادڑوں کے حلقے ہیں
کوئ خلا کی گھنی رات سے اترتا ہے
تمام شہر پہ آسیب سا مسلط ہے
کوئ چراغ جلاو ، کوئ حدیث پڑھو
کوئ چراغ بہ رنگِ عزارِ لا لہ رخاں
کوئ حدیث باندازِ صدقۂ دل و جاں
کوئ کِرن پئے تز ئینِ غُرفہ و محراب
کوئ نوا پئے درماندگاں و سوختہ جاں
سناہے عالمِ روحانیاں کے خانہ بدوش
سحر کی روشنیوں سے گریز کرتے ہیں
سحر نہیں ہے تو مشعل کا آسرا لاؤ
لبوں پہ دل کی سلگتی ہوئ دعا لاؤ
دلوں کے غُسلِ طہارت کے واسطے جا کر
کہیں سے خونِ شہیدانِ نینوا لاؤ
ہر اک قبا پہ کثافت کے داغ گہرے ہیں
لہو کی بوند سے یہ پیرہن دھلیں تو دھلیں
ہوا چلے تو چلے بادباں کھلیں تو کھلیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔