Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

تحریر کے آنسو

سنا ہوگا بہت تم نے
کہیں آنکھوں کی رم جھم کا
کہیں پلکوں کی شبنم کا
کہیں لہجے کی بارش کا
کہیں ساغر کی آنسو کا
مگر تم نے ۔۔
میرے ہمدم ۔۔
کہیں دیکھا ؟
کہیں پرکھا ؟
کسی تحریر کے آنسو ؟
مجھے تیری جُدائی نے
یہی معراج بخشی ہے
کہ میں جو لفظ لکھتا ہوں
وہ سارے لفظ روتے ہیں
کہ میں جو حرف بُنتا ہوں
وہ سارے بَین کرتے ہیں
میرے سنگ اس جُدائی میں
میرے الفاظ مرتے ہیں
میری تحریر کی لیکن ۔۔
کبھی کوئی نہیں سُنتا
میرے الفاظ کی سسکی
فلک بھی جو ہلا ڈالے
میرے لفظوں میں ہیں شامل
اُسی تاثیر کے آنسو !
کبھی دیکھو میرے ہمدم

میری تحریر کے آنسو

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔