Pages

Subscribe:

Thursday, 17 May 2012

چشم میگوں ذرا ادھر کر دے

چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
دستِ قدرت کو بے اثر کر دے

تیز ہے آج دردِ دل ساقی
تلخیِ مے کو تیز تر کر دے

جوشِ وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو تا جگر کر دے

میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے

فیض تکمیلِ آرزو معلوم!
ہو سکے تو یونہی بسر کر دے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔