Pages

Subscribe:

Monday, 21 May 2012

مرحلے شوق کے

مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں

وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں

صرف ہاتھوں کو نا دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خودار ہوا کرتے ہیں

وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
ان کے سینے میں بھی شاہکا ر ہوا کرتے ہیں

صبح کی پہلی کرن جن کو رلا دیتی ہے
وہ ستاروں کے ازادار ہوا کرتے ہیں

جن کی آنکھوں میں صدا پیار کے صحرا چمکیں
در حقیقت وہی فنکار ہوا کرتے ہیں

شرم آتی ہے دشمن کسے سمجھیں محسن
دشمنی کے بھی کچھ معیار ہوا کرتے ہیں . . . !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔