Pages

Subscribe:

Monday, 21 May 2012

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اُداس لگتا ہے

یہ وصل کا لمحہ ہے اسے رائیگاں نا سمجھ
کے اس کے بعد وہی دوریوں کا سہارا ہے

کچھ اور دیر نا جھڑتا اداسیوں کا شجر
کسے خبر تیرے سائے میں کون بیٹھا ہے

یہ رکھ - رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے

میں کس طرح تجھے دیکھوں نظر جھجھکتی ہے
تیرا بدن ہے کے یہ آئینوں کا دریا ہے

اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اسطرح محسن
کے جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتاہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔