Pages

Subscribe:

Tuesday, 15 May 2012

یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کماں کا ہے


بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا
وہ کہہ گیا تھا ، یہی وقت امتحان کا ہے


یہ اور بات ، کے عدالت ہے بے خبر ورنہ
تمام شہر میں چرچا میرے بیان کا ہے


اثر دکھا نا سکا اس کے دل میں اشک میرا
یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کماں کا ہے


بچھڑ بھی جائے مگر مجھ سے بے - خبر بھی رہے
یہ حوصلہ ہی کہاں میرے بعد - گمان کا ہے


قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن
ہوا میں شور ابھی تک میری اڑن کا ہے
محسن نقوی . . . !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔