Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

مجھکو دیکھے گا مسکرا دے گا

مجھ کو دیکھے گا مسکرا دے گا
پھول صحرا میں پھر کھلا دے گا

جو ہیں محتاج ان سے کیا مانگیں
آدمی، آدمی کو کیا دے گا

پہلے کردار سے بنو موسیٰ
پھر سمندر بھی راستہ دے گا

مجھ کو بے چہرہ گی عطا کرکے
پھر وہ تحفے میں آئینہ دے گا

پہلے شامل کرے گا ہستی میں
اور ہستی کو پھر مٹا دے گا

وہ طرفدار پھر ہوا کا ہے
شمع تجھ کو وہ پھر بجھا دے گا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔