Pages

Subscribe:

Saturday, 15 September 2012

لمحے کسی کی یاد کے آنسو بنا دئے(منزل و محمِل)


لمحے کسی کی یاد کے آنسو بنا دئے
طوفاں میں حسرتوں کے سفینے بہا دئے
دیکھے نہ کوئی یاد میں آئے ہوئے اُنہیں
ہم نے چراغ اے شبِ ہجراں بجھا دئے
یعنی شبِ فراق گذاری ہے اس طرح
خود جاگے۔ دے کے تھپکیاں ارماں سلا دئے
منظر کوئی نگاہ  میں آیا تو کیا کہیں؟
بے چارگی سے کس طرح ہم تلملا دئے
مجھ کو تو خیر بھول کے ہی ہوں گے دن بسر
کیا واقعات سارے کے سارے بھلا دئے
ہمراز نے ہمارے ہی کل بزمِ غیر میں
سب واقعات نام بدل کر سنا دئے
اِس زندگی میں تم پہ کوئی حرف آ نہ جائے
تم نے جو خط لکھے تھے وہ سارے جلا دئے
احباب کی تسلیِ خاطر کے واسطے
ان کے ہر اک سوال پر ہم مسکرا دئے
کس نے نظر ملا کے تبسم بروزِ عید
کھڑکی کے پردے ہاتھ بڑھا کر گرا دئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔