Pages

Subscribe:

Wednesday, 26 September 2012

جتنی آزاد ہیں بے باک ہیں اِنسانوکی (منزل و محمِل)

جتنی آزاد ہیں بے باک ہیں اِنسانوکی
اِتنی بے باک نہیں نیتیں حیوانوں کی
روشنی دیکھی ہے شہرونکی شبستانونکی
اِن سے پیاری ہے شبِ ماہ بیابانونکی
دل ہلا دیتی ہے تہذیب کے ماتھے کی شکن
خار بن جاتی ہیں کلیاں بھی گلستانونکی
اضطراب اور بڑھاتا ہے ہجومِ یاراں
اور سکوں دیتی ہیں تنہائیاں ویرانونکی
لذتِ درد سے خالی ہیں دلوں کے گوشے
کون لیتا ہے خبر سوختہ سامانونکی
جن میں ہے ساغرو مینا وہی نازک سے ہاتھ
اِینٹ سے اِینٹ بجا دیتے ہیں میخانونکی
عقل کے نام پہ کوئی نہ سردار آیا
یہ وہ منزل ہے جو پامال ہے دیوانونکی
ذوق اَرزاں ہے تو کچھ تبسم اِرشاد
آپ بھی بیٹھے ہیں مجلس میں غزلخوانونکی
</

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔