Pages

Subscribe:

Friday, 7 September 2012

شاعری سچ بولتی ہے

لاکھ پردوں میں رہوں، بھید میرے کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زبان ڈولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

تیرا اصرار کے چاہت میری بیتاب نہ ہو
واقف اس غم سے میرا حلقہ احباب نہ ہو
تو مجھے ضبط کے صحرائوں میں کیوں رولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

یہ بھی کیا بات کے چھپ چھپ کے تجھے پیار کروں
گر کوئی پوچھ ہی بیٹھے تو میں انکار کروں
جب کسی بات کو دنیا کی نظر ٹٹولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

میں نے اس فکر میں کاٹی کئی راتیں کئی دن
میرے شعروں میں تیرا نام نہ آئے لیکن
جب تیری سانس میری سانس میں رس گھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

تیرے جلووں کا ہے پرت میری اک اک غزل
تو میرے جسم کا سایا ہے تو کترا کے نہ چل
پردہ داری تو خود اپنا ہی بھرم کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔