Pages

Subscribe:

Thursday, 12 July 2012

عشق نے دل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی



عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی
!! درد دنیا میں جب آیا تو دوا بھی آئی

دل کی ہستی سے کیا عشق نے آگاہ مجھے
! دل جب آیا تو دھڑکنے کی صدا بھی آئی

صدقے اُتاریں گے ، اسیرانِ قفس چھوٹے ہیں
!! بجلیاں لے کے نشیمن پہ گھٹا بھی آئی

آپ سوچا ہی کئے ، اُس سے ملوں یا نہ ملوں
!! موت مشتاق کو مٹّی میں مِلا بھی آئی

لو ! مسیحا نے بھی ، اللّھ نے بھی یاد کِیا
! آج بیمار کو ہچکی بھی ، قضا بھی آئی

دیکھ یہ جادہَ ہستی ہے ، سنبھل کر ' فانی'
پیچھے پیچھے وہ دبے پاؤں قضا بھی آئی
فانی بدایوانی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔