Pages

Subscribe:

Friday, 6 July 2012

شکل اسکی تھی دلبروں جیسی

شکل اس کی تھی دلبروں جيسی
خو تھي ليکن ستمگروں جيسی
اس کے لب تھے سکوت کے دريا
اس کی آنکھيں سخنوروں جيسی
ميری پرواز جاں ميں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جيسی
دل کي بستی ميں رونقيں ہيں مگر
چند اجڑے ہوئے گھروں جيسی
کون ديکھے گا اب صليبوں پر
صورتيں وہ پيمبروں جيسی
ميری دنيا کے بادشاہوں کی
عادتيں ہيں گداگروں جيسی
رخ پہ صحرا ہيں پياس کے محسن
دل ميں لہريں سمندروں جيسی
محسن نقوی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔