Pages

Subscribe:

Wednesday, 4 July 2012

روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے

روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے
مرے اشکوں سے چھُپا لے مرے رُخسار مُجھے
دیکھ اے دشتِ جُنوں بھید نہ کھُلنے پائے
ڈھونڈنے آئے ہیں گھر کے در و دیوار مُجھے
سِی دیے ہونٹ اُسی شخص کی مجبوری نے
جِس کی قُربت نے کیا مِحرمِ اسرار مُجھے
میری آنکھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اَنجُم
جیسے پہچان گئی ہو شبِ بیدار مُجھے
جِنسِ ویرانیِ صحرا میری دوکان میں ہے
کیا خریدے گا ترے شہر کا بازار مُجھے
جَرسِ گُل نے کئی بار بلایا لیکن
لے گئی راہ سے زنجیر کی جَھنکار مُجھے
نَاوکِ ظُلم اُٹھا دَشنۂ اَندوہ سَنبھَال
لُطف کے خَنجرِ بے نام سے مت مار مُجھے
ساری دُنیا میں گَھنی رات کا سنّاٹا تھا
صحنِ زِنداں میں ملے صُبح کے آثار مُجھے
مصطفی زیدی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔