Pages

Subscribe:

Monday, 25 June 2012

میرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحو

میرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحو

ذرا ٹہرو کہ میری سانسیں بہت مدھم ہیں

میرے اشکوں نے میری آنکھوں سے بغاوت کی ہے

میرے چہرے پہ کسی غم کی سیاہی ہے

زندگی درد کے صحرا سے گزر آئی ہے

میری یادوں میں وہ قدموں کے نشاں باقی ہیں

جن قدموں سے وہ میری اور چلی آتی تھی

ان آنکھوں میں کبھی مجھ کو ٹھکا نہ نا ملا

جن آنکھوں میں محبت کی ضیا پائی تھی

اب وہ آنکھیں چمکتی ہیں سیاہ راتوں میں

بے کلی اور بڑھاتی ہے میرے دل کی

اس کی باتوں میں اترتی ہوئی مدھم شوخی

اس کے ماتھے سے چھلکتی ہوئی تاروں سی چمک

اس کا مخمور نگاہوں سے تکنا میرا

جس کی حدت سے مری جاں نکل جاتی تھی

میرے بے ربط سوالوں کے جوابوں میں

بڑے غور سے مرے چہرے کو تکنا اس کا

میرے دل کے نہاں خانے میں چھپی بیٹھی ہیں

وہ یادیں جو کبھی حال کا آئینہ تھیں

وہ منظر کہ جسے پانے کو اب ترستی ہے نگاہ

وہ راتیں جو مچلتی تھیں ملاقاتوں کیلئے



مرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحوں

تم جو آتے ہو تو من کے نہاں خانوںمیں

کسی ہستی کو مجسم بنا دیتے ہو

وہ تخیل کے جسے چھونے کی اجازت ہی نہیں

وہ پیکر جو اب کسی اور کی امانت ہے

میرے پہلو میں اب یادوں کے سوا کیا ہے

اب میرے پاس ان دفینوں کے سوا کیا ہے

یوں نہ ہو کہ یہ دفینے مٹا دے مجھ کو

میری ہستی اس بے نام سی کسک میں ہی

خاک ہو جائے اور کسی کو پتہ ہی نہ چلے

میرے اپنے میری وحشت سے گریزاں ہو کر

اپنے ہاتھوں کو چھڑا لیں مرے ہاتھوں سے

میری آنکھوں میں اک صحرا کے سوا کچھ بھی نہ ہو

میری پلکوں پہ اشکوں کے سوا کچھ بھی نہ رہے


مرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحوں

یہ حقیقت بھی کسی طور سمجھ لینے دو

زندگی ایک ہی تخیل کا جہاں تو نہیں ہے

کئی رنگ میرے اب بھی منتظر سے ہیں

انھیں دیکھو،انھیں سمجھوں، انھیں اپنا لوں میں

غم یارں سے نکل کر مجھے جینے دو

ہے بڑا حبس تھوڑی سانس ہی لے لینے دو

مجھے چھوڑو کہ مجھے اب تو جی لینے دو

میرے دل سے گزرتے ہوئے بوجھل لمحوں

ذرا ٹہرو کہ میری سانسیں بہت مدھم ہیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔