Pages

Subscribe:

Sunday, 10 June 2012

کچھ یادگار شہر ستمگر ہی لے چلیں

کچھ یادگارشہر ستمگر ہی لے چلیں
آۓ ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

رنج سفر کی کوئ نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاک کوچہ دلبر ہی لے چلیں

یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دلگرفتگی
گھبرا گۓ ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہر بے چراغ میں جاۓ گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔