کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی
ورق ورق پہ بکھرتا گیا میرا چہرہ
سحر کے نور سے دھلتی ہوئی تیری آنکھیں
سفر کی گرد میں لپٹا ہوا میرا چہرہ
ہوا کا آخری بوسہ تھا یا قیامت تھی ؟
بدن کی شاخ سے پھر گر پڑا میرا چہرہ
جسے بجھا کے ھوا سوگوار پھرتی ہے
وہ شمع شام سفر تھی کہ میرا چہرہ
یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں محسن
میں سوچتا ہوں کہاں رہ گیا میرا چہرہ ؟
Thursday, 7 June 2012
کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی Kitaab khol raha tha wo apney mazi ki
Labels:
Muhsan Naqvi-محسن نقوی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔