Pages

Subscribe:

Sunday, 10 June 2012

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں


اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر تیرے بعد حوصلہ ہے کے جی رہا ہوں

وہ ریزہ ریزہ میرے بدن میں اُتَر رہا ہے
میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھ کو پی رہا ہوں

تیری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا
مجھے تو لگتا ہے میں تیرا دوست بھی رہا ہوں

کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر
کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کے جی رہا ہوں

کہاں ملے گی مثال میری ستمگری کی ؟
کے میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

نا پوچھ مجھ سے کے شہر والوں کا حال کیا تھا
کے میں تو خود اپنے گھر میں دو گھڑی رہا ہوں

ملا تو بیتے دنوں کا سچ اسکی آنکھ میں تھا
وہ آشْنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں

بھلا دے مجھ کو کے بیوفائی بجا ہے لیکن
گنوا نا مجھ کو کے میں تیری زندگی رہا ہوں

وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسن
یہ ناز کم ہے کے میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔