Pages

Subscribe:

Wednesday, 20 June 2012

مہر کی تجھ سے توقع تھی ستمگر نکلا


مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا

داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بے تاب
کس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا

جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا
جو ستم دیدہ رہا جا کے سو مر کے نکلا

دل کی آبادی کی اس حد ھے خرابی کہ نہ پوچھ
جانا جاتا ھے کہ اس راہ سے لشکر نکلا

اشک تر قطرہ خوں لخت جگر پارہ دل
ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہتر نکلا

ہم نے جانا تھا لکھے گا کوئی حرف اے میر
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔