Pages

Subscribe:

Saturday, 9 June 2012

یادوں کا ویران جزیرہ

یادوں کا ویران جزیرہ برسوں تک آباد رہے
ہجر کا موسم اچھا گزرے ایسی کوئی نشانی دے
رات سے پہلے گھر آ جانا دھُند اُترنے والی ہے
رات کہاں سے خوشیاں دے گی شام ہی جب ویرانی دے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔