Pages

Subscribe:

Saturday, 30 June 2012

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے

ہر ايک زخم کا چہرہ گلاب جيسا ہے
مگر يہ جاگتا منظر بھي خواب جيسا ہے
يہ تلخ تلخ سا لہجہ، يہ تيز تيز سي بات
مزاج يار کا عالم شراب جيسا ہے
مرا سخن بھي چمن در چمن شفق کي پھوار
ترا بدن بھي مہکتے گلاب جيسا ہے
بڑا طويل، نہايت حسيں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جيسا ہے
تو زندگي کےحقائق کي تہہ ميں يوں نہ اتر
کہ اس ندي کا بہاؤ چناب جيسا ہے
تري نظر ہي نہيں حرف آشنا ورنہ
ہر ايک چہرہ يہاں پر کتاب جيسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ريت کي لہر
مرے خيال کا دريا سراب جيسا ہے
ترے قريب بھي رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خيال کا جلوہ حباب جيسا ہے
محسن نقوی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔