Pages

Subscribe:

Monday, 25 June 2012

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا؟

ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو میں کہاں جا نکلا؟
ایک پردہ جو اُٹھا ، دوسرا پردا نکلا
منظرِ زیست سراسر تہ و بالا نکلا
غور سے دیکھا تو ہر شخص تماشا نکلا

ایک ہی رنگ کا غم خانۂ دنیا نکلا

غمِ جاناں بھی غمِ زیست کا سایا نکلا

اس رہِ عشق کو ہم اجنبی سمجھے تھے مگر

جو بھی پتھر ملا ، برسوں کا شناسا نکلا

آرزو، حسرت و ا ُمید ، شکایت ، آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

جو بھی گزرا تری فرقت میں وہ اچھا گزرا

جو بھی نکلا مری تقدیر میں ا چھا نکلا

گھر سے نکلے تھے کہ آئینہ دکھائیں سب کو

اور ہر عکس میں خود اپنا سراپا نکلا

کیوں نہ ہم بھی کریں اُس نقش ِ کفِ پا کی تلاش؟

شعلۂ طور بھی تو ایک بہانا نکلا

جی میں تھا بیٹھ کے کچھ اپنی کہیں گے سرور

تو بھی کم بخت زمانہ کا ستایا نکلا
سرور عالم راز سرور

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔