Pages

Subscribe:

Sunday, 28 October 2012

مجھ کو گلاب جیسا کفن کون دے گیا

تعزیرِ اہتمامِ چمن کون دے گیا
مجھ کو گلاب جیسا کفن کون دے گیا
دیکھے جو خدّوخال تو سوچا ہے بارِ ہا
صحرا کی چاندنی کو بدن کون دے گیا
میری جبیں کی ساری لکیریں تیری عطا
لیکن تِری قبا کو شکن کون دے گیا
تیرے ہنر میں خلقتِ خوشبو سہی مگر
کانٹوں کو عمر بھر کی چبھن کون دے گیا
جنگل سے پوچھتی ہے ہواؤں کی برہمی
جگنو کو تیرگی میں کرن کون دے گیا
کس نے بسائے آنکھ میں اشکوں کے قافلے
بے گھر مسافروں کو وطن کون دے گیا
تجھ سے تو ہر پَل کی مسافت کا ساتھ تھا
میرے بدن کو اتنی تھکن کون دے گیا
توڑا ہے کس نے نوکِ سناں پر سکوتِ صبر
لب بستگی کو تابِ سخن کون دے گیا
محسن وہ کائناتِ غزل ہے اُسے بھی دیکھ
مجھ سے نہ پوچھ مجھ کو یہ فن کون دے گیا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔