Pages

Subscribe:

Friday, 12 October 2012

ہر شب سوال کرتے ہیں یہ کہکشاں سے ہم

ہر شب سوال کرتے ہیں یہ کہکشاں سے ہم
بھٹکے ہوئے ہیں دشت میں کس کارواں سے ہم
ٹھہرا جہاں ہے قافلۂِ حُسن و آگہی
اپنا پتہ بھی پائیں کے شاید وہاں سے ہم
یہ مسئلہ فناوبقا کا نہ حل ہوا
تنگ آ گئے ہیں کشمکشِ دو جہاں سے ہم
صحنِ چمن نہ ساقیِ مہوش نہ میکدہ
رنگینیاں بہار کی لائیں کہاں سے ہم
بستر پہ ہم نہیں تھے زمیں پر شب فراق
تاروں کے ساتھ ڈوب گئے آسماں سے ہم
یاروں نے خامشی پہ اُڑایا ہے وہ مذاق
رُسوا ہوئے ہیں اور بھی ضبطِ فغاں سے ہم
باقی ہے کیوں تبسم خستہ کا آشیاں
اب کے ضرور پوچھیں گے برقِ تپاں سے ہم

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔