Pages

Subscribe:

Tuesday, 16 October 2012

کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں

کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار ، آؤ سچ بولیں

سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقع اظہار ، آؤ سچ بولیں

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
بنامِ عظمت کردار ، آؤ سچ بولیں

سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے
پکار کر سرِ دربار ، آؤ سچ بولیں

تمام شہر میں ایک بھی نہیں منصور
کہیں گے کیا رسن و دار ، آؤ سچ بولیں

جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار ، آؤ سچ بولیں

چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں

قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔