Pages

Subscribe:

Sunday, 28 October 2012

عذاب دید میں‌آنکھیں لہو لہو کر کے

عذاب دید میں‌آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ  ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے
اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی  ہے
ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے
کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسن
ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔