Pages

Subscribe:

Thursday, 2 August 2012

منزل و محمل- خیمہ گاہ سبطِ نبی

خیمہ گاہ سبطِ نبی کی تھی مقامِ کربلا
اسلئے وردِ  زباں ہے سب کو نامِ کربلا
تشنہ کامانِ محبت اپنے رب سے جا ملے
دشمنوں کو دام میں لایا ہے دامِ کربلا
زندہؑ جاوید ہوتے ہیں شھیدانِ وفا
آ رہا ہے دمبدم اُن پر سلامِ کربلا
مشہد و مقتل کو کر دو پھر لہو سے سرخرو
اے عزادارو یہی ہے بس پیامِ کربلا
آج بھی موجود ہیں ہم میں حسین ابنِ علی
صبحِ تو کا دے رہی ہے مژدہ شامِ کربلا
پُھوٹ نکلا تھا سویرا جو شبِ عاشور سے
در حقیقت ہے وہی صبحِ دوامِ کربلا
کیوں کیا تھا بند پانی فاطمہ کے لال پر
علقمہ اب بھی ہے برہم۔ ہمکلامِ کربلا
ایکا لمحہ لے گیا تھا جنت الفردوس میں
حُر کی توبہ اور صداقت کا بنامِ کربلا
روز آتی ہے مدینے سے نسیمِ خوش خرام
رُو کشِ جنت ہوئی ہے صبح و شامِ کربلا
اُسوہؑ شبیر پر چل کر تبسم جان دو
مانتے ہو۔ ہے امام اپنا امامِ کربلا
 ------------
 فرد
 صدائیں آج بھی دیتی ہے کربلا کی زمین
مگر اب زمانے میں کوئی بھی حسین نہیں

م۔م تبسم کاشمیری

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔