Pages

Subscribe:

Thursday, 9 August 2012

منزل و محمل۔ دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے

یہ جھوٹ ہے وہ کچھ بھی تمھارے نہیں ہوتے
ہر ایک سے دزدیدہ اشارے نہیں ہوتے
ہم اور تیرے راز کی تشہیر کریں گے
کم ظرف غمِ عشق کے مارے نہیں ہوتے
امید بر آئے یہ ضروری تو نہیں ہے
پھر کیا ہے اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
کیا جانیں تھپیڑوں سے پناہ مانگنے والے
دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے
آ گردشِ حالات پہ دو اشک بہا لیں
تم میرے۔ وہ محبوب تمھارے نہیں ہوتے
دمساز شبِ ہستیِ موہوم کا ڈھونڈو
ڈوبیں جو سرِ شام ستارے نہیں ہوتے
کیا فائدہ غیروں کی شکائیت سے تبسم
جب اپنے ہی جذبات ہمارے نہیں ہوتے

2 comments:

ارتقاء حیات : -

میرے وطن کے رہنماؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
جس میں ہو صِدیق ؓکی عظمت
جس میں ہو عثمان ؓکی عقیدت
جس میں ہو فاروق ؓکی جرأت
جس میں ہو حیدر ؓکی شجاعت
مِٹ جائیں ظلمت کے گھاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
طارق کی تَدبیِر ہو جس میں
محجن کی زنجیر ہو جس میں
قرآن کی تا ثیر ہو جس میں
مِلّت کے جذبات جگاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
سر توڑے جو مغروروں کا
ساتھی ہو جو مہجوروں کا
دارِ ستم کے منصوروں کا
محکوموں کا مجبوروں کا
چل نہ سکے زردار کا داؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

Tahir : -

ماشااللہ جی بہت اچھا ذوق پایا ہے۔ آپ کی تحریر آپکے جذبات کی عکاس ہے۔ خدا کرے کے آئندہ وقت میں کوئی ایسا آئے ابھی تو میلوں تک کوئی نظر نہیں آتا۔ پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔