Pages

Subscribe:

Thursday, 2 August 2012

کتاب کیچڑ میں گِر پڑی تھی


کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی

چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں

الجھتے آنسو بلا رہے تھے

مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا

نظر میں اک اور ہی جہاں تھا

نئے نئے منظروں کی خواہش میں

اپنے منظر سے کٹ گیا تھا،

نئے نئےدائروں کی گردش میں

اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں

صلہ، جزاء، خوف، نا امیدی

امید، امکان، بے یقینی،

ہزاروں میں بٹ گیا ہوں

اب اس سے پہلے کے رات اپنی کمند ڈالے،

یہ چاہتا ہوں کے لوٹ آؤں

عجب نہیں کےوہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو،

عجب نہیں آج بھی راہ میری دیکھتی ہو،

چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھتے آنسو

ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں

عجب نہیں میرے لفظ مجھکو معاف کر دیں

عجب گھڑی تھی

کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔