Pages

Subscribe:

Sunday, 4 November 2012

تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق

تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق
دل میں اتری ہے عجب سوختہ جاں شامِ فراق
خواب کی راکھ سمیٹے گی بکھر جائے گی
صورتِ شعلئہ خورشید رخاں شامِ فراق
باعثِ رونقِ اربابِ جنوں ویرانی
حاصلِ وحشتِ آشفتہ سراں شامِ فراق
تیرے میرے سبھی اقرار وہیں بکھرے تھے
سر جھکائے ہوئے بیٹھی ہے جہاں شامِ فراق
اپنے ماتھے پہ سجا لے ترے رخسار کا چاند
اتنی خوش بخت و فلک ناز کہاں شامِ فراق
ڈھلتے ڈھلتے بھی ستاروں کا لہو مانگتی ہے
میری بجھتی ہوئی آنکھوں میں رواں شامِ فراق
اب تو ملبوس بدل، کاکلِ بے ربط سنوار
بجھ گئی شہر کی سب روشنیاں شامِ فراق
کتنی صدیوں کی تھکن اس نے سمیٹی محسن
یہ الگ بات کہ پھر بھی ہے جواں شامِ فراق

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔