Pages

Subscribe:

Sunday, 4 November 2012

اے مرے کبریا


اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!!
میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے
میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر
تیری پہچان کا اولیں مرحلہ!
میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا!
تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر!!
میری منزل؟
تیری رہگزر کی خبر!
میرا حاصل؟
تری آگہی کی عطا!!
میرے لفظوں کی سانسیں
ترا معجزہ!
میرے حرفوں کی نبضیں
ترے لطف کا بے کراں سلسلہ!
میرے اشکوں کی چاندی
ترا آئینہ!
میری سوچوں کی سطریں
تری جستجو کی مسافت میں گم راستوں کا پتہ!
میں مسافر ترا ۔۔۔۔ (خود سے نا آشنا)
ظلمتِ ذات کے جنگلوں میں گھرا
خود پہ اوڑھے ہوئے کربِ وہم و گماں کی سُلگتی رِدا
ناشناسائیوں کے پرانے مرض
گُمرہی کے طلسمات میں مبتلا
سورجوں سے بھری کہکشاں کے تلے
ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ترا نقش پا ۔ ۔ ۔ !!
اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!!
کب تلک گُمرہی کے طلسمات میں؟
ظلمتِ ذات میں
ناشناسائیوں سے اَٹی رات میں
دل بھٹکتا رہے
بھر کے دامانِ صد چاک میں
بے اماں حسرتوں کا لہو
بے ثمر خواہشیں
رائیگاں جستجو!!
اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!!
کوئی رستہ دکھا
خود پہ کُھل جاؤں میں
مجھ پہ افشا ہو تُو'
اے مرے کبریا!!
کبریا اب مج ہے
لوحِ ارض و سما کے
سبھی نا تراشیدہ پوشیدہ
حرفوں میں لپٹے ہوئے
اسم پڑھنا سکھا
اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!
میں مسافر ترا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔