Pages

Subscribe:

Friday, 9 November 2012

کيا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کي داستاں

کيا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کي داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہيں اسلاميوں کا سوز و ساز

لے گئے تثليث کے فرزند ميراثِ خليل

! خشتِ بنيادِ کليسا بن گئي خاکِ حجاز

! ہوگئي رسوا زمانے ميں کلاہِ لالہ رنگ
 
! جو سراپا ناز تھے، ہيں آج مجبورِ نياز

لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس

وہ مےء سرکش، حرارت جس کي ہے مينا گداز

حکمتِ مغرب سے ملت کي يہ کيفيت ہوئي

ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر ديتا ہے گاز

ہوگيا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو

مضطرب ہے تو کہ تيرا دل نہيں دانائے راز

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔