Pages

Subscribe:

Monday, 12 November 2012

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں


یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں،
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دل میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
اشکوں کا نور لٹاتی تھیں،
جب سانسیں اجلے چہروں کی
تن من میں پھول سجاتی تھیں
جب چاند کی رم جھم کرنوں سے
سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے
جب ایک تلاطم رہتا تھا !
اپنے بے انت خیالوں میں
ہر عہد نبھانے کی قسمیں
خط، خون سے لکھنے کی رسمیں
جب عام تھیں ہم دل والوں میں
اب اپنی اجڑی آنکھوں میں
جتنی روشن سی راتیں ہیں،
اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں
جس عمر کے خواب خیال ہوئے
وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
وہ عمر بتائے سال ہوئے
اب اپنی دید کے رستے میں
کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں،
کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
کچھ یادوں کی برساتیں ہیں
پچھلے عشق کی باتیں ہیں

1 comments:

Syed Aamir Hussain : -

بھائ شاعر کا نام بھی دیا کریں پلیز

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔