Wednesday, 9 August 2017
نالہ حدودِ کوئے رسا سے گزر گیا Naal hadood-e-koeyay rasa sey guzar gaya
Friday, 24 January 2014
زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے zinda hai dil to is mein mohhabat b chaheyey
زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے
آنکھیں جو ہیں تو راہِ وفا دیکھ کر چلو
آذر کدے کی آنچ سے شہ پا کے یک بیک
صر صر بنی ہوئی ہے صبا دیکھ کر چلو
امسال دیدنی ہے چمن میں جنوں کا رنگ
گُل چاک کر رہے ہیں قبا دیکھ کر چلو
گُلچیں کے سدّباب سے انکار ہے کسے
لیکن اصولِ نشو و نما دیکھ کر چلو
کچھ سرپھروں کو ذکرِ وفا بھی ہے ناگوار
یہ انحطاطِ مہر و وفا دیکھ کر چلو
ہاں انفرادیت بھی بُری چیز تو نہیں
چلنا اگر ہے سب سے جدا دیکھ کر چلو
آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو ہر شے ہے بے نقاب
اے بندگانِ حرص و ہوا دیکھ کر چلو
ذوقِ عبودیت ہو کہ گستاخیِ نگاہ
تخمینۂ جزا و سزا دیکھ کر چلو
ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو
دیکھو بلند و پست فضا دیکھ کر چلو
یہ تو بجا کہ ذوقِ سفر ہے ثبوتِ زیست
اس دشت میں سموم و صبا دیکھ کر چلو
عرفان و آگہی بھی عبادت سہی مگر
طرز و طریقِ اہلِ وفا دیکھ کر چلو
اسبابِ ظاہری پہ بھی درکار ہے نظر
باوصف اعتمادِ خدا دیکھ کر چلو
ممکن ہے روحِ سرو و سمن سے ہو ساز باز
کیا دے گئی گلوں کو صبا دیکھ کر چلو
ہر کشمکش نہیں ہے امینِ سکونِ دل
ہر موت میں نہیں ہے بقا دیکھ کر چلو
ہر لحظہ ہے پیمبرِ اندیشہ و عمل
کیا چاہتا ہے رنگِ فضا دیکھ کر چلو
یہ بھی روش نہ ہو رہِ مقصود کے خلاف
آئی ہے یہ کدھر سے صدا "دیکھ کر چلو"
ہمدرد بن کے دشمنِ دانش ہوئے ہیں لوگ
یہ بھی ہے دوستی کی ادا دیکھ کر چلو
آنکھیں جو ہیں تو راہِ وفا دیکھ کر چلو
آذر کدے کی آنچ سے شہ پا کے یک بیک
صر صر بنی ہوئی ہے صبا دیکھ کر چلو
امسال دیدنی ہے چمن میں جنوں کا رنگ
گُل چاک کر رہے ہیں قبا دیکھ کر چلو
گُلچیں کے سدّباب سے انکار ہے کسے
لیکن اصولِ نشو و نما دیکھ کر چلو
کچھ سرپھروں کو ذکرِ وفا بھی ہے ناگوار
یہ انحطاطِ مہر و وفا دیکھ کر چلو
ہاں انفرادیت بھی بُری چیز تو نہیں
چلنا اگر ہے سب سے جدا دیکھ کر چلو
آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو ہر شے ہے بے نقاب
اے بندگانِ حرص و ہوا دیکھ کر چلو
ذوقِ عبودیت ہو کہ گستاخیِ نگاہ
تخمینۂ جزا و سزا دیکھ کر چلو
ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو
دیکھو بلند و پست فضا دیکھ کر چلو
یہ تو بجا کہ ذوقِ سفر ہے ثبوتِ زیست
اس دشت میں سموم و صبا دیکھ کر چلو
عرفان و آگہی بھی عبادت سہی مگر
طرز و طریقِ اہلِ وفا دیکھ کر چلو
اسبابِ ظاہری پہ بھی درکار ہے نظر
باوصف اعتمادِ خدا دیکھ کر چلو
ممکن ہے روحِ سرو و سمن سے ہو ساز باز
کیا دے گئی گلوں کو صبا دیکھ کر چلو
ہر کشمکش نہیں ہے امینِ سکونِ دل
ہر موت میں نہیں ہے بقا دیکھ کر چلو
ہر لحظہ ہے پیمبرِ اندیشہ و عمل
کیا چاہتا ہے رنگِ فضا دیکھ کر چلو
یہ بھی روش نہ ہو رہِ مقصود کے خلاف
آئی ہے یہ کدھر سے صدا "دیکھ کر چلو"
ہمدرد بن کے دشمنِ دانش ہوئے ہیں لوگ
یہ بھی ہے دوستی کی ادا دیکھ کر چلو
Tuesday, 15 October 2013
غم کے ریلے میں دُھلے دِل کی دُعا عید کا چاندGham key raily mein dhullay dil ki dua eid ka chand
غم کے ریلے میں دُھلے دِل کی دُعا عید کا چاند
چشمِ پُر نم کو ہے رِم جھِم کی سزا عید کا چاند
پہلے آویزاں رہا گوہرِ مِژگاں پہ ہِلال
صبر کی ڈور کٹی ، چھن سے گرا عید کا چاند
غش میں دیکھا سَرِ دِہلیز کوئی زَخمی سر
رینگ کر اَوٹ میں بادل کی چھپا عید کا چاند
چند لمحے نظر آتا ہے ، چلا جاتا ہے
کچھ تو ہے جس پہ ہے ہم سب سے خفا عید کا چاند
عید ہے طفل تسلی ، مرے خوش خوش بچو!۔
بچپنے میں ہمیں بھاتا تھا بڑا عید کا چاند
سسکیاں ہجر گَزیدوں کی سِوا ہوتی گئیں
جانے کس دَرد کی ہوتا ہے دَوا عید کا چاند
چاند کو دیکھ کے اِک چاند بہت یاد آیا
اَب کے آنکھوں میں نہیں دِل میں چبھا عید کا چاند
گیلی لکڑی سا سلگتے تھے مگر زِندہ تھے
نیم جاں دِل کی جلاتا ہے چتا عید کا چاند
دیکھ کر مجھ کو ہنسا ، میں نے کچھ ایسے دیکھا
سال بھر ساتھ مرے روتا رہا عید کا چاند
نیم بسمل ہیں اِسی شہر میں ایسے بھی قیس
جن کے مر جانے کی کرتا ہے دُعا عید کا چاند
چشمِ پُر نم کو ہے رِم جھِم کی سزا عید کا چاند
پہلے آویزاں رہا گوہرِ مِژگاں پہ ہِلال
صبر کی ڈور کٹی ، چھن سے گرا عید کا چاند
غش میں دیکھا سَرِ دِہلیز کوئی زَخمی سر
رینگ کر اَوٹ میں بادل کی چھپا عید کا چاند
چند لمحے نظر آتا ہے ، چلا جاتا ہے
کچھ تو ہے جس پہ ہے ہم سب سے خفا عید کا چاند
عید ہے طفل تسلی ، مرے خوش خوش بچو!۔
بچپنے میں ہمیں بھاتا تھا بڑا عید کا چاند
سسکیاں ہجر گَزیدوں کی سِوا ہوتی گئیں
جانے کس دَرد کی ہوتا ہے دَوا عید کا چاند
چاند کو دیکھ کے اِک چاند بہت یاد آیا
اَب کے آنکھوں میں نہیں دِل میں چبھا عید کا چاند
گیلی لکڑی سا سلگتے تھے مگر زِندہ تھے
نیم جاں دِل کی جلاتا ہے چتا عید کا چاند
دیکھ کر مجھ کو ہنسا ، میں نے کچھ ایسے دیکھا
سال بھر ساتھ مرے روتا رہا عید کا چاند
نیم بسمل ہیں اِسی شہر میں ایسے بھی قیس
جن کے مر جانے کی کرتا ہے دُعا عید کا چاند
Monday, 16 September 2013
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی aiy chaman walo mata e rang o boo
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی
پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی
ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی
دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی
اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی
دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی
پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی
ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی
دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی
اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی
دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی
محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا Mehfilein lut gain jazbat ney dam tod diya
محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا
ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا
آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑ دیا
جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑ دیا
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا
ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
Monday, 9 September 2013
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟ Kia yey zulm thoda hai
حکیم شہر بتا
وقت کے شکنجوں نے
خواہشوں کے پھولوں کو
نوچ نوچ توڑا ہے
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟
درد کے جزیروں نے
آرزو کے جیون کو
مقبروں میں ڈالا ہے
ظلمتوں کے ڈیرے ہیں
لوگ سب لٹیرے ہیں
موت روٹھ بیٹھی ہے
ذات ریزہ ریزہ ہے
تارتار آنچل ہے
درد درد جیون ہے
شبنمی سی پلکیں ہیں
قرب ہے نہ دوری ہے
زندگی ادھوری ہے
مجھ کو
اب یقین آیا ہے کہ
موت بھی ضروری ہے
وقت کے شکنجوں نے
خواہشوں کے پھولوں کو
نوچ نوچ توڑا ہے
کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟
درد کے جزیروں نے
آرزو کے جیون کو
مقبروں میں ڈالا ہے
ظلمتوں کے ڈیرے ہیں
لوگ سب لٹیرے ہیں
موت روٹھ بیٹھی ہے
ذات ریزہ ریزہ ہے
تارتار آنچل ہے
درد درد جیون ہے
شبنمی سی پلکیں ہیں
قرب ہے نہ دوری ہے
زندگی ادھوری ہے
مجھ کو
اب یقین آیا ہے کہ
موت بھی ضروری ہے
Monday, 15 July 2013
موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی Mosem e gul key lieyey bar e gran chod gai
موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی
زرد پتّے جو گلستاں میں خزاں چھوڑ گئی
مجھ کو تنہائی کے احساس سے ڈر لگتا ہے
تو مجھے عمرِ رواں جانے کہاں چھوڑ گئی
ترا احسان ہے اے فصلِ بہاراں مجھ پر
جاتے جاتے مرے ہونٹوں پہ فغاں چھوڑ گئی
یہ شکایت ہے عبث ہم سے تری گردشِ وقت
دیکھ ہم اب بھی وہیں ہیں، تو جہاں چھوڑ گئی
شمع روشن تھی تو محفل میں بھی رونق تھی صباؔ
گل ہوئی شمع تو محفل میں دھواں چھوڑ گئی
زرد پتّے جو گلستاں میں خزاں چھوڑ گئی
مجھ کو تنہائی کے احساس سے ڈر لگتا ہے
تو مجھے عمرِ رواں جانے کہاں چھوڑ گئی
ترا احسان ہے اے فصلِ بہاراں مجھ پر
جاتے جاتے مرے ہونٹوں پہ فغاں چھوڑ گئی
یہ شکایت ہے عبث ہم سے تری گردشِ وقت
دیکھ ہم اب بھی وہیں ہیں، تو جہاں چھوڑ گئی
شمع روشن تھی تو محفل میں بھی رونق تھی صباؔ
گل ہوئی شمع تو محفل میں دھواں چھوڑ گئی
Subscribe to:
Posts (Atom)


