Pages

Subscribe:
Showing posts with label Jaan Ailia-جان ایلیا. Show all posts
Showing posts with label Jaan Ailia-جان ایلیا. Show all posts

Thursday, 30 August 2012

ہم بصد ناز دل و جاں میں بسائے بھی گئے Hum basad naaz dil-o-jaan mein basayey bhi gayey

ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے
ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے
کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے
ہم سے روٹھا بھی گیا یم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے
جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے
جون! دل َ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 29 August 2012

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے Gham hai be majra kai din sey

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے
بے شمیمِ ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہِ صبا کئی دن سے
دل محلے کی اس گلی میں بَھلا
کیوں نہیں غُل مچا کئی دن سے
وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مِل سکا کئی دن سے
اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بےواسطہ کئی دن سے
مکمل تحریر اور تبصرے >>