Showing posts with label Saghar Sadiqi- ساغر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label Saghar Sadiqi- ساغر صدیقی. Show all posts
Wednesday, 9 August 2017
ہَر شے ہے پُر ملال بڑی تیز دُھوپ ہے Har shey hai purmalal badi taiz dhoop hai
ہَر شے ہے پُر ملال بڑی تیز دُھوپ ہے
دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں Do jahanoon ki khabar rakhtey hain
دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں
بادہ خانوں کی خبر رکھتے ہیں
خارزاروں سے تعلق ہے ہمیں
گُلستانوں کی خبر رکھتے ہیں
ہم اُلٹ دیتے ہیں صدیوں کے نقاب
ہم زمانوں کی خبر رکھتے ہیں
اُن کی گلیوں کے مکینوں کی سُنو
لا مکانوں کی خبر رکھتے ہیں
چند آوارہ بگولے اے دوست
کاروانوں کی خبر رکھتے ہیں
زخم کھانے کا سلیقہ ہو جنہیں
وہ نشانوں کی خبر رکھتے ہیں
کُچھ زمینوں کے ستارے ساغرؔ
آسمانوں کی خبر رکھتے ہیں
(ساغر صدیقی)
بزمِ کونین سجانے کے لیے آپ ﷺ آئے Bazm-e-qounain sajaney key liyey app aayey
بزمِ کونین سجانے کے لیے آپ ﷺ آئے
شمعِ توحید جلانے کے لیے آپ ﷺ آئے
ایک پیغام ، جو ہو دل میں اُجالا کردے
ساری دُنیا کو سُنانے کے لیے آپ ﷺ آئے
ایک مدّت سے بھٹکتے ہوئے انسانوں کو
ایک مرکز پہ بلانے کے لیے آپ ﷺ آئے
ناخدا بن کے اُبلتے ہوئے طوفانوں میں
کشتیاں پار لگانے کے لیے آپ ﷺ آئے
قافلہ والے بھٹک جائیں نہ منزل سے کہیں
دُور تک راہ دکھانے کے لیے آپ ﷺ آئے
چشمِ بید کو اسرارِ خدائی بخشے
سونے والوں کو جگانے کے لیے آپ ﷺ آئے
(ساغر صدیقی)
نالہ حدودِ کوئے رسا سے گزر گیا Naal hadood-e-koeyay rasa sey guzar gaya
نالہ حدودِ کوئے رسا سے گزر گیا
اب درد دل علاج و دوا سے گزر گیا
ان کا خیال بن گئیں سینے کی دھڑکنیں
نغمہ مقام صورت و صدا سے گزر گیا
اعجاز بے خودی ہے کہ یہ حسن بندگی
اک بت کی جستجو میں خدا سے گزر گیا
انصاف سیم و زر کی تجلی نے ڈس لیا
ہر جرم احتیاج سزا سے گزر گیا
الجھی تھی عقل و ہوش میں ساغر رہ حیات
میں لے کے تیرا نام فنا سے گزر گیا
(ساغر صدیقی)
Monday, 16 September 2013
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی aiy chaman walo mata e rang o boo
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی
پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی
ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی
دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی
اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی
دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی
پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی
ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی
دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی
اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی
دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی
محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا Mehfilein lut gain jazbat ney dam tod diya
محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا
ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا
آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑ دیا
جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑ دیا
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا
ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
Monday, 25 March 2013
چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند Chaak daaman ko jo daikha to mila eid ka chand
چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند
ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چبھا، عید کا چاند
جانے کیوں آپ کے رخسار مہک اٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چپکے سے کہا، "عید کا چاند"
دور ویران بسیرے میں دیا ہو جیسے
غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عید کا چاند
لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے
آج بھی خلد کی رنگین فضا، عید کا چاند
تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کر درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند
چشم تو وسعت افلاک میں کھوئی ساغر
دل نے اک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند
ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چبھا، عید کا چاند
جانے کیوں آپ کے رخسار مہک اٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چپکے سے کہا، "عید کا چاند"
دور ویران بسیرے میں دیا ہو جیسے
غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عید کا چاند
لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے
آج بھی خلد کی رنگین فضا، عید کا چاند
تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کر درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند
چشم تو وسعت افلاک میں کھوئی ساغر
دل نے اک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند
میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست Mein altafat e yaar ka qayal nahin hoon dost
میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست
مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار
میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست
ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو
اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست
دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات
دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست
جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبرُو
اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست
لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد
محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست
ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش
ساقی سے میں اُدھار کا قائل نہیں ہوں دوست
سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست
مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار
میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست
ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو
اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست
دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات
دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست
جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبرُو
اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست
لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد
محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست
ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش
ساقی سے میں اُدھار کا قائل نہیں ہوں دوست
دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں Dastoor yahan bhi goongay hain farman yahan bhi andhay hain
دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپٹے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں
زر دار توقّع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پہ
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں
کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں
بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑتی دیکھی ہے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپٹے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں
زر دار توقّع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پہ
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں
کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں
بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑتی دیکھی ہے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم Aa ja keh intazaar e nazar hain kabhi sey hum
آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم
مایوس ہو نہ جائیں کہیں زندگی سے ہم
اے عکسِ زلفِ یار ہمیں تو پناہ دے
گھبرا کے آ گئے ہیں بڑی روشنی سے ہم
برسوں رہی ہے جن سے رہ و رسمِ دوستی
انکی نظر میں آج ہوئے اجنبی سے ہم
اس رونق ِ بہار کی محفل میں بیٹھ کر
کھاتے رہے فریب بڑی سادگی سے ہم
مایوس ہو نہ جائیں کہیں زندگی سے ہم
اے عکسِ زلفِ یار ہمیں تو پناہ دے
گھبرا کے آ گئے ہیں بڑی روشنی سے ہم
برسوں رہی ہے جن سے رہ و رسمِ دوستی
انکی نظر میں آج ہوئے اجنبی سے ہم
اس رونق ِ بہار کی محفل میں بیٹھ کر
کھاتے رہے فریب بڑی سادگی سے ہم
Monday, 21 January 2013
اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالۂ دلفگار بن کر Agarcha hum ja rahey hain mehfil say
اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالۂ دلفگار بن کر
مگر یقیں ہے کہ لوٹ آئیں گے نغمۂ نوبہار بن کر
یہ کیا قیامت ہے باغبانو کہ جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمہاری آنکھوں میں خار بن کر
جہاں والے ہمارے گیتوں سے جائزہ لیں گے سسکیوں کا
جہان میں پھیل جائیں گے ہم بشر بشر کی پکار بن کر
بہار کی بدنصیب راتیں بلا رہی ہیں چلے بھی آؤ
کسی ستارے کا روپ لے کر کسی کے دل کا قرار بن کر
تلاش منزل کے مرحلوں میں یہ حادثہ اک عجیب دیکھا
فریب راہوں میں بیٹھ جاتا ہے صورت اعتبار بن کر
غرور مستی نے مار ڈالا وگرنہ ہم لوگ جی ہی لیتے
کسی کی آنکھوں کا نور ہو کر کسی کے دل کا قرار بن کر
دیارِ پیر مغاں میں آ کر یہ اک حقیقت کھلی ہے ساغر
خدا کی بستی میں رہنے والے تو لوٹ لیتے ہیں یار بن کر
مگر یقیں ہے کہ لوٹ آئیں گے نغمۂ نوبہار بن کر
یہ کیا قیامت ہے باغبانو کہ جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمہاری آنکھوں میں خار بن کر
جہاں والے ہمارے گیتوں سے جائزہ لیں گے سسکیوں کا
جہان میں پھیل جائیں گے ہم بشر بشر کی پکار بن کر
بہار کی بدنصیب راتیں بلا رہی ہیں چلے بھی آؤ
کسی ستارے کا روپ لے کر کسی کے دل کا قرار بن کر
تلاش منزل کے مرحلوں میں یہ حادثہ اک عجیب دیکھا
فریب راہوں میں بیٹھ جاتا ہے صورت اعتبار بن کر
غرور مستی نے مار ڈالا وگرنہ ہم لوگ جی ہی لیتے
کسی کی آنکھوں کا نور ہو کر کسی کے دل کا قرار بن کر
دیارِ پیر مغاں میں آ کر یہ اک حقیقت کھلی ہے ساغر
خدا کی بستی میں رہنے والے تو لوٹ لیتے ہیں یار بن کر
پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے Poocha kisi ney haal kisi ka to ro diyey
پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیے
نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دیے
غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیے
اڑتا ہوا غبار سرِ راہ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیے
بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے
سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دیے
رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
ساغر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیے
نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دیے
غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیے
اڑتا ہوا غبار سرِ راہ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیے
بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے
سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دیے
رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
ساغر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دیے
نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس پر اسرار سا ہے Nazar nazar beqrar si hai nafas nafas purisrar sa hai
نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس پر اسرار سا ہے
میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤ گے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے
مرے عزیزو! میرے رفیقو! چلو کوئی داستان چھیڑو
غم زمانہ کی بات چھوڑو یہ غم تو اب سازگار سا ہے
وہی فسر دہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ
مری نگاہوں میں بار سا تھا مری نگاہوں میں بار سا ہے
کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے
چلو کہ جشن بہار دیکھیں چلو کہ ظرف بہار جانچیں
چمن چمن روشنی ہوئی ہے کلی کلی پہ نکھار سا ہے
یہ زلف بر دوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں
مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤ گے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے
مرے عزیزو! میرے رفیقو! چلو کوئی داستان چھیڑو
غم زمانہ کی بات چھوڑو یہ غم تو اب سازگار سا ہے
وہی فسر دہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ
مری نگاہوں میں بار سا تھا مری نگاہوں میں بار سا ہے
کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے
چلو کہ جشن بہار دیکھیں چلو کہ ظرف بہار جانچیں
چمن چمن روشنی ہوئی ہے کلی کلی پہ نکھار سا ہے
یہ زلف بر دوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں
مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کی پی گیا Mein talhi e hayat say ghabra key pi gya
میں تلخیِ حیات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار
کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
دنیائے حادثات ہے اک درد ناک گیت
دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار
کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
دنیائے حادثات ہے اک درد ناک گیت
دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
Wednesday, 16 January 2013
فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا Fizayey neem shabi keh rahi hai sab acha
فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا
ہماری بادہ کشی کہہ رہی ہے سب اچھا
نہ اعتبارِ محبت، نہ اختیارِ وفا
جُنوں کی تیز روی کہہ رہی ہے سب اچھا
دیارِ ماہ میں تعمیر مَے کدے ہوں گے
کہ دامنوں کی تہی کہہ رہی ہے سب اچھا
قفس میں یُوں بھی تسلّی بہار نے دی ہے
چٹک کے جیسے کلی کہہ رہی ہے سب اچھا
وہ آشنائے حقیقت نہیں تو کیا غم ہے
حدیثِ نامہ بَری کہہ رہی ہے سب اچھا
تڑپ تڑپ کے شبِ ہجر کاٹنے والو
نئی سحر کی گھڑی کہہ رہی ہے سب اچھا
حیات و موت کی تفریق کیا کریں ساغر
ہماری شانِ خود کہہ رہی ہے سب اچھا
ہماری بادہ کشی کہہ رہی ہے سب اچھا
نہ اعتبارِ محبت، نہ اختیارِ وفا
جُنوں کی تیز روی کہہ رہی ہے سب اچھا
دیارِ ماہ میں تعمیر مَے کدے ہوں گے
کہ دامنوں کی تہی کہہ رہی ہے سب اچھا
قفس میں یُوں بھی تسلّی بہار نے دی ہے
چٹک کے جیسے کلی کہہ رہی ہے سب اچھا
وہ آشنائے حقیقت نہیں تو کیا غم ہے
حدیثِ نامہ بَری کہہ رہی ہے سب اچھا
تڑپ تڑپ کے شبِ ہجر کاٹنے والو
نئی سحر کی گھڑی کہہ رہی ہے سب اچھا
حیات و موت کی تفریق کیا کریں ساغر
ہماری شانِ خود کہہ رہی ہے سب اچھا
Monday, 14 January 2013
زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ Zulfoon ki ghatayen pi jao
زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ
وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ
اے تشنہ دہانِ جور خزاں
پھولوں کی ادائیں پی جاؤ
تاریکی دوراں کے مارو
صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ
نغمات کا رس بھی نشہ ہے
بربط کی صدائیں پی جاؤ
مخمور شرابوں کے بدلے
رنگین خطائیں پی جاؤ
اشکوں کا مچلنا ٹھیک نہیں
بے چین دعائیں پی جاؤ
وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ
اے تشنہ دہانِ جور خزاں
پھولوں کی ادائیں پی جاؤ
تاریکی دوراں کے مارو
صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ
نغمات کا رس بھی نشہ ہے
بربط کی صدائیں پی جاؤ
مخمور شرابوں کے بدلے
رنگین خطائیں پی جاؤ
اشکوں کا مچلنا ٹھیک نہیں
بے چین دعائیں پی جاؤ
برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے Bar gashta e yazdaan sey kuch bhool hoi hai
برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے
تا حّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے
میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ہے نفرت
زاہد! ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے
تا حّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے
میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ہے نفرت
زاہد! ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا Koi naala yahan rasa na howa
کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا
اشک بھی حرفِ مدعا نہ ہوا
تلخی درد ہی مقدر تھی
جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہوا
ماہتابی نگاہ والوں سے
دل کے داغوں کا سامنا نہ ہوا
آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں
میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا
وہ شہنشہ نہیں بھکاری ہے
جو فقیروں کا آسرا نہ ہوا
رہزن عقل و ہوش دیوانہ
عشق میں کوئی رہنما نہ ہوا
ڈوبنے کا خیال تھا ساغر
ہائے ساحل پہ ناخدا نہ ہوا
اشک بھی حرفِ مدعا نہ ہوا
تلخی درد ہی مقدر تھی
جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہوا
ماہتابی نگاہ والوں سے
دل کے داغوں کا سامنا نہ ہوا
آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں
میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا
وہ شہنشہ نہیں بھکاری ہے
جو فقیروں کا آسرا نہ ہوا
رہزن عقل و ہوش دیوانہ
عشق میں کوئی رہنما نہ ہوا
ڈوبنے کا خیال تھا ساغر
ہائے ساحل پہ ناخدا نہ ہوا
Thursday, 10 January 2013
یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا Yaqeen kar k yey kuhna nizam badley ga
یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
مرا شعور مزاج عوام بدلے گا
یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار ہستی کی
نیا طریق قفس اور دام بدلے گا
نفس نفس میں شرارے سے کروٹیں لیں گے
دلوں میں جذبہء محشر خرام بدلے گا
مروتوں کے جنازے اٹھائے جائیں گے
سنا ہے ذوق سلام و پیام بدلے گا
دل و نظر کو عطا ہوں گی مستیاں ساغر
یہ بزم ساقی یہ بادہ یہ جام بدلے گا
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں Aik wada hai kisi ka jo wafa hota nahin
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں
جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے کا نقاب
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں
شمع جسکی آبرو پر جان دے دے جھوم کر
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے ، فنا ہوتا نہیں
اب تو مدت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے
اب تو انکا طور پر بھی سامنا ہوتا نہیں
ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں
ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں
ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر
ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں
جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے کا نقاب
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں
شمع جسکی آبرو پر جان دے دے جھوم کر
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے ، فنا ہوتا نہیں
اب تو مدت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے
اب تو انکا طور پر بھی سامنا ہوتا نہیں
ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں
ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں
ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر
ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
Subscribe to:
Posts (Atom)


