Pages

Subscribe:
Showing posts with label Faiz Ahmed Faiz-فیض احمد فیض. Show all posts
Showing posts with label Faiz Ahmed Faiz-فیض احمد فیض. Show all posts

Thursday, 25 April 2013

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے Hum musafir yunhi masroof e safar jayeney gey

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے

شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 27 February 2013

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے Hum musaafir yunhin masroof e safar


ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے


شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 25 November 2012

یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو Yey khoon ki mehek hai keh lab-e-yaar ki khusboo


یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو
گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہُوا آباد
کِس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
دستِ تہِ سنگ آمدہ
بیزار فضا، در پئے آزارِ صبا ہے
یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے
ہاں بادہ کشو آیا ہے اب پہ موسم
اب سیر کے قابل روشِ آب و ہوا ہے
اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات
چھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہے
وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی
ہر کاسہ ہے زہرِ  ہلاہل سے سوا ہے
ہاں جام اٹھاؤ کہ بیادِ لبِ شیریں
یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے
اس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہے
مقصود رہِ شوق وفا ہے نہ جفا ہے
احساسِ غمِ دل جو غمِ دل کا صلا ہے
اس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہے
ہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریں
ہر پھول تری یاد کا نقشِ کفِ پا ہے
ہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنم
ڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہے
ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک
ہر حرف تمنّا ترے قدموں کی صدا ہے
تعزیر سیاست ہے، نہ غیروں کی خطا ہے
وہ ظلم جو ہم نے دلِ وحشی پہ کیا ہے
زندانِ  رہِ یار میں پابند ہوئے ہم
زنجیر بکف ہے، نہ کوئی بند بپا ہے
’’مجبوری و دعویٰ گرفتاریِ الفت
دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے‘‘
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 19 November 2012

زندان نامہ کی ایک شام Zindan naama ki aik sham

زندان نامہ کی ایک شام
شام کے پیچ و خم ستاروں سے
زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات
یوں صبا پاس سے گزرتی ہے
جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات
صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار
سرنگوں، محو ہیں بنانے  میں
دامنِ آسماں پہ نقش و نگار
شانہ بام پر دمکتا ہے
مہرباں چاندنی کا دست جمیل
خاک میں گھُل گئی ہے آب نجوم
نُور میں گھُل گئی ہے عرش کا نیل
سبز گوشوں میں نیلگوں سائے
لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں
موجِ دردِ فراقِ یار آئے
دل سے پیہم خیال کہتا ہے
اتنی شیریں ہے زندگی اس پل
ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہوسکیں  گے آج نہ کل
جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں
سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر
دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر
دور افق تک گھٹتی،بڑھتی،اٹھتی،گرتی رہتی ہے
کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر
بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
     اے روشنیوں کے شہر
     اے روشنیوں کے شہر
کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ
ہر جانب بے نور کھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ
تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ
     آج مرا دل فکر میں ہے
     اے روشنیوں کے شہر
شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو
خیر ہو تیری لیلاؤں کی،ان سب سے کہہ دو
آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 19 October 2012

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی Kab thehrey ga dard aey dil kab raat basar ho gi

کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی
کب جان لہو ہو گی، کب اشک گہر ہو گا
کس دن تری شنوائی اے دیدہ تر ہو گی
کب مہکے گی فصلِ گل، کب بہکے گا میخانہ
کب صبحِ سخن ہو گی، کب شامِ نظر ہو گی
واعظ ہے نہ زاہد ہے، ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہو گی
کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامتِ جانانہ
کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے Terey gham ko jaan ki talash thi

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب، سرِ رہگزر چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرنے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں  تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں  جرمِ عشق  پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 17 October 2012

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر door afaaq pey lahrai koi noor ki leher


دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر
خواب ہی خواب میں بیدار ہُوا درد کا شہر
خواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگی
عدم آبادِ جُدائی میں سحر ہونے لگی
کاسہ دل میں بھری اپنی صبُوحی میں نے
گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر
دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر
آنکھ سے دُور کسی صبح کی تمہید لیے
کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت
بے خبر گزری، پریشانیِ اُمیّد لئے
گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر
حسرتِ روزِ ملاقات رقم کی میں نے
دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام
حُسنِ آفاق، جمالِ لب و رخسار کے نام
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اب کوئی طبل بجے گا، نہ کوئی شاہسوار Ab koi table bajey ga na koi

اب کوئی طبل بجے گا، نہ کوئی شاہسوار
صبح دم موت کی وادی کو روانہ ہو گا!
اب کوئی جنگ نہ ہو گی نہ کبھی رات ہو گی
خون کی آگ کو اشکوں سے بُجھانا ہو گا
کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں
وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا
سہم، خونخوار درندے کی طرح آئے گا
اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ
خوں لُٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہو گا
ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت
مطربا! کوئی غزل رنگِ حِنا کی صورت
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 13 October 2012

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند Owr kuch dair mein lut jayey ga har baam pey chand

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند
عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے
عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری
سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے
آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں
اپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئی
بے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقت
اس گھڑی اپنے سوا یا نہ آئے گا کوئی!
ترکِ دنیا کا سماں، ختمِ ملاقات کا وقت
اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے
اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں، رہنے دو
کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو
اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے
اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے
اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشترِ صبح
زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے
اور ہر کشتہ واماندگی آخر شب
بھول کر ساعتِ درماندگی آخرِ شب
جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 8 September 2012

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے Tum nan aeyey they to har cheez wohi thi key jo hai

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے
اور اب شیشہ مَے،راہگزر،رنگِ فلک
رنگ ہے دل کا مرے،’’خون جگر ہونے تک‘‘
چمپئی رنگ کبھی راحتِ دیدار  کا رنگ
سرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگ
زرد پتّوں کا،خس و خار کا رنگ
سُرخ پھُولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگ
زہر کا رنگ، لہو رنگ، شبِ تار کا رنگ
آسماں، راہگزر،شیشہ مَے،
کوئی بھیگا ہُوا دامن،کوئی دُکھتی ہوئی رگ
کوئی ہر لحظہ بدلتا ہُوا آئینہ ہے
اب جو آئے ہو تو ٹھہرو کہ کوئی رنگ،کوئی رُت،کوئی شے
ایک جگہ پر ٹھہرے،
پھر سے اک بار چیز وہی ہو کہ جو ہے
آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 6 September 2012

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے Hum jo tareek rahoon mein marey gayey

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ھم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے


سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتوں کی چاندی دمکتی رہی

جب کھلی تیری راہوں میں شام ستم
ہم چلے آئے؛ لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرف غزل؛ دل میں قندیل غم
اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

نار سائی اگر اپنی تقدیر تھی ،
تیری الفت تو اپنی تدبیر تھی
کس کو گلہ ہے گر شوق کے سلسلے
ھجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گئے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سےہمارے قدم
مختصر کر چلے دور کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جان گنوا کر تیری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 4 September 2012

یہ دھوپ کنارا شام ڈھلے Yey dhoop kinaara shaam dhaley

یہ دھُوپ کنارا، شام ڈھلے
مِلتے ہیں دونوں وقت جہاں
جو رات نہ دن، جو آج نہ کل
پل بھر کو امر،پل بھر میں دھواں
اِس دھوپ کنارے، پل دو پل
ہونٹوں کی لپک
باہوں کی چھنک
یہ میل ہمارا، جھوٹ نہ سچ
کیوں زار کرو،کیوں دوش دھرو
کس کارن، جھوٹی بات کرو
جب تیری سمندر آنکھوں میں
اس شام کا سورج ڈوبے گا
سُکھ سوئیں گے گھر دَر والے
اور راہی اپنی رہ لے گا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 27 July 2012

ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی ملاقاتوں کے بعد Hum key thehrey ajnabi itni mulaqatoon key baad

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت ہی بےدردلمحےختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کيئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 5 June 2012

گڑی ہیں کتنی صلیبیں میرے دریچے میں Gadi hain kitni saleebein merey dareechey mein

گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں
ہر ایک اپنے مسیحا کے خوں کا رنگ لیے
ہر ایک وصلِ خداوند کی امنگ لیے
کسی پہ کرتے ہیں ابرِ بہار کو قرباں
کسی پہ قتل مہِ تابناک کرتے ہیں
کسی پہ ہوتی ہے سرمست شاخسار دونیم
کسی پہ بادِ صبا کو ہلاک کرتے ہیں
ہر آئے دن یہ خداوندگانِ مہر و جمال
لہو میں‌غرق مرے غمکدے میں‌آتے ہیں
اور آئے دن مری نظروں کے سامنے ان کے
شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

درد آئے گا دبے پاؤں Dard aeyey ga dabey paoon

اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو
فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے
درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ
وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے
شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا
دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا
حلقۂ زلف کہیں، گوشۂ رخسار کہیں
ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں
لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ناگہاں آج مرے تارِ نظر سے کٹ کر Nagahan aaj mery taar-e-nazar sey kat kar

ناگہاں آج مرے تارِ نظر سے کٹ کر
ٹکڑے ٹکڑے ہوئے آفاق پہ خورشید و قمر
اب کسی سَمت اندھیرا نہ اُجالا ہو گا
بُجھ گئی دل کی طرح راہِ وفا میرے بعد
دوستو! قافلہ درد کا اب کیا ہو گا
اب کوئی اور کرے پرورشِ گلشنِ غم
دوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنم
تھم گیا شورِ جنوں ختم ہوئی بارشِ سنگ
خاکِ رہ آج لئے ہے لبِ دلدار کا رنگ
کُوئے جاناں میں کھُلا میرے لہو کا پرچم
دیکھئے دیتے ہیں کِس کِس کی صدا میرے بعد
’’کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
ہے مکّرر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد
‘‘
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 2 June 2012

وہ ایک سوچا ہوا ناز سا تکلم میں Tum jis khawaab mein Ankhen kholo

تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اُس کا رُوپ امر
تُم جس رنگ کا کپڑا پہنو
وہ موسم کا رنگ
تُم جس پھول کو ہنس کر دیکھو کبھی نہ وہ مرجھائے
تُم جس حرف پہ انگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 24 May 2012

چھوڑو غم کی بات Chodo ghum ki baat

اب کے دیکھیں راہ تمھاری
بیت چلی ہے رات
چھوڑو
چھوڑو غم کی بات
تھم گئے آنسو
تھک گئیں اکھّیاں
گزر گئی برسات
بیت چلی ہے رات
چھوڑو
چھوڑو غم کی بات
کب سے آس لگی درشن کی
کوئی نہ جانے بات
کوئی نہ جانے بات
بیت چلی ہے رات
چھوڑو غم کی بات
تم آؤ تو من میں اترے
پھولوں کی بارات
بیت چلی ہے رات
اب کیا دیکھیں راہ تمھاری
بیت چلی ہےرات
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 18 May 2012

اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے Ab key yun dil ko saza di hum ney


اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
ایک ، ایک پھول بہت یاد آیا
شاخ گل جب وہ جلا دی ہم نے
آج تک جس پے وہ شرماتے ہیں
بات وہ کب کی بھلا دی ہم نے
شہر جہاں راکھ سے آباد ہوا
آگ جب دل کی بجھا دی ہم نے
آج پھر یاد بہت آیا وہ
آج پھر اس کو دعا دی ہم نے
کوئی تو بات ہے اس میں فیض
ہر خوشی جس پے لٹا دی ہم نے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں Wo jis ki deed mein lakhoon musartein pinhan

وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں
ہزار فتنے تہِ پائے ناز، خاک نشیں
ہر اک نگاہِ خمارِ شباب سے رنگیں
شباب جس سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں
وقار، جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
ادائے لغزشِ پا پر قیامتیں قرباں
بیاضِ رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں
سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم
طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم
وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اِترائے
زبانِ شعر کی تعریف کرتے شرم آئے
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش
بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش
گداز جسم ، قبا جس پہ سج کے ناز کرے
دراز قد جسے سروِ سہی نماز کرے
غرض وہ حسن جو محتاجِ وصف و نام نہیں
وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں
کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا
بصد غرور و تجمّل، ادھر سے گزرا تھا
اور اب یہ راہگزر بھی ہے دلفریب و حسیں
ہے اس کی خاک میں کیف ِ شراب و شعر مکیں
ہوا میں شوخیِ رفتار کی ادائیں ہیں
فضا میں نرمیِ گفتار کی صدائیں ہیں
غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزوِ منظر ہے
نیازِ عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>