Pages

Friday, 21 September 2012

سجدوں سے گِھس چکا ہوں ترے سنگِ در کو میں (منزل و محمِل) Sajdoon sey gis chuka hoon

سجدوں سے گِھس چکا ہوں ترے سنگِ در کو میں
پھر بھی دعا میں مانگ رہا ہوں اثر کو میں
عرضِ نیاز شوق ہے اور پائے یار ہے
وہ خود بھی حکم دے تو اٹھاؤں نہ سر کو میں
گو منزلِ جنوں سے بھی آگے نکل گیا
طے کر رہا ہوں پھر بھی ابھی رہگزر کو میں
صبحِ ازل کہاں ہے وہ نظارہء جمال
بھولا نہیں ہوں لطف کی پہلی نظر کو میں
دنیائے مستعار پسند آ گئی مجھے
بیٹھا ہوا ہوں کھول کے رختِ سفر کو میں
کچھ صورتیں نگاہوں میں ایسی سما گئیں
گم کر چکا ہوں سرمہء نورِ بصر کو میں
گلشن ترا۔ گلوں میں تبسم بھی ہے ترا
میں کیا ہوں؟ پُاؤں کسطرح اپنی خبر کو میں

1 comment:

  1. عرضِ نیاز شوق ہے اور پائے یار ہے
    وہ خود بھی حکم دے تو اٹھاؤں نہ سر کو میں
    بہت خوب

    ReplyDelete