دل کے جذبات کی تفسیر سے ڈر جاتا ہوں
انجمن والوں کی تعزیر سے ڈر جاتا ہوں
بات کرنے کا کبھی اس سے جو آتا ہے خیال
اے محبت تری تعبیر سے ڈر جاتا ہوں
میری تدبیر کو اقدام کی جرءات کیا ہو
میں تو بے مہریِ تقدیر سے ڈر جاتا ہوں
میرے احباب کے بارے میں نہ پوچھو مجھ سے
وہ تو وہ اُن کی تصویر سے ڈر جاتا ہوں
خرقہ پوشوں کے شب و روز سے واقف ہوں میں
ان کے اسرار کی تشہیر سے ڈر جاتا ہوں
رہنماؤں میں قیادت کے ہیں جوہر مفقود
اسلئیے قوم کی تعمیر سے ڈر جاتا ہوں
روبرو اُن کے تبسم نہیں آتا لب پر
اُن کے فرمان کی تحقیر سے ڈر جاتا ہوں
انجمن والوں کی تعزیر سے ڈر جاتا ہوں
بات کرنے کا کبھی اس سے جو آتا ہے خیال
اے محبت تری تعبیر سے ڈر جاتا ہوں
میری تدبیر کو اقدام کی جرءات کیا ہو
میں تو بے مہریِ تقدیر سے ڈر جاتا ہوں
میرے احباب کے بارے میں نہ پوچھو مجھ سے
وہ تو وہ اُن کی تصویر سے ڈر جاتا ہوں
خرقہ پوشوں کے شب و روز سے واقف ہوں میں
ان کے اسرار کی تشہیر سے ڈر جاتا ہوں
رہنماؤں میں قیادت کے ہیں جوہر مفقود
اسلئیے قوم کی تعمیر سے ڈر جاتا ہوں
روبرو اُن کے تبسم نہیں آتا لب پر
اُن کے فرمان کی تحقیر سے ڈر جاتا ہوں
No comments:
Post a Comment