Pages

Friday, 21 September 2012

اب کے بھی اُن سے عرضِ تمنا نہ کر سکے (منزل و محمِل) Ab key bhi un sey arz-e-tamna

اب کے بھی اُن سے عرضِ تمنا نہ کر سکے
جذبات کی طہارتیں رسوا نہ کر سکے
بکھری پڑی تھیں دل سے زباں تک شکایتیں
جب رُوبُرو وہ آئے تو یکجا نہ کر سکے
ہر بار احتیاط نے دامن پکڑ لیا
بے خوف ہو کے اُن کا تماشا  نہ کر سکے
پہلے پہل وہ سرسری سی نظر ِالتفات
کیا کہہ گئی کہ ترکِ تمنا نہ کر سکے
تکمیل آشیاں نہ ہوئی ہم سے یا وہی
اپنی نظر میں بجلیاں پیدا نہ کر سکے
یہ دردِ زندگی بھی کوئی لادوا نہیں
خود وہ اگر علاج مسیحا نہ کو سکے
سونپی ہے ہم نے دل کو تبسم زمامِ کار
ممکن ہے کوئی کام یہ دیوانہ کر سکے

No comments:

Post a Comment