کس کی نگاہ فتنہ اثر کام کر گئی
دنیائے چار سُو ہی نظر سے اُتر گئی
نظارہء جمال نے بے خود سا کر دیا
احساس پر تو ایک قیامت گذر گئی
چونکے تو اک خلا تھا نگاہوں کے سامنے
ہمراہ شہسوار کے گردِ سفر گئی
اے دل یقین ہے کہ وہ ہونگے اسی طرف
شب جس طرف گئی تھی اُسی رُخ سحر گئی
سودائے ہوشیار ہی بھٹکا نہیں یہاں
عقلِ جنوں نواز بھی تو بے خبر گئی
ہمت کو تازیانہ ہے محرومیِ وصال
افسوس کیا ہے آہ اگر بے اثر گئی
عشق اور احتراز غمِ روزگار سے؟
یہ زلف تو نہیں کہ سنوارہ سنور گئی
ہستی کے معرکے میں تبسم بھی فرد ہے
خود کیا مٹا کہ حسرتِ حرماں بھی مر گئی
دنیائے چار سُو ہی نظر سے اُتر گئی
نظارہء جمال نے بے خود سا کر دیا
احساس پر تو ایک قیامت گذر گئی
چونکے تو اک خلا تھا نگاہوں کے سامنے
ہمراہ شہسوار کے گردِ سفر گئی
اے دل یقین ہے کہ وہ ہونگے اسی طرف
شب جس طرف گئی تھی اُسی رُخ سحر گئی
سودائے ہوشیار ہی بھٹکا نہیں یہاں
عقلِ جنوں نواز بھی تو بے خبر گئی
ہمت کو تازیانہ ہے محرومیِ وصال
افسوس کیا ہے آہ اگر بے اثر گئی
عشق اور احتراز غمِ روزگار سے؟
یہ زلف تو نہیں کہ سنوارہ سنور گئی
ہستی کے معرکے میں تبسم بھی فرد ہے
خود کیا مٹا کہ حسرتِ حرماں بھی مر گئی
No comments:
Post a Comment