جب تیز ہواؤں کی چراغوں سے ٹھنی ہے
اَے صحنِ چمن۔ چادرِ ظلمات تنی ہے
جو پھول چراغوں کی طرح جل نہیں سکتے
گلشن میں سمجھتے ہیں غریبُ الوطنی ہے
جیسے کہ ہو جنگل بھی گلستاں کا شناسا
یوں کاکُلِ سنبل میں پھنسی ناگ پھنی ہے
گل کو نہیں احساسِ غمِ بُلبلِ نالاں
بجلی کی اگر شاخِ نشیمن سے ٹھنی ہے
اَے باغِ وطن۔ بُوئے وطن ڈھونڈ رہا ہوں
تسلیم۔ درختوں کی تیرے چھاؤں گھنی ہے
اللہ رے۔ سیرتِ اربابِ سیاست
دشمن ہیں وہی جن سے کبھی گاڑھی چھنی ہے
دل چیر کے رکھ دوں تو نہ مانے وہ تبسم
ناصح کی کبھی شاعرِ مخلص سے بنی ہے
No comments:
Post a Comment