Pages

Saturday, 15 September 2012

نسیم صبحگاہی آ چلیں صحن گلستاں میں (منزل و محمِل) Naseem subhgahi Aa chalein


نسیم صبحگاہی آ چلیں صحن گلستاں میں
بہارِ گل۔ ابھی فرصت ہے بھر لیں جیب و داماں میں
زمانہ آ رہا ہے جب نظر پتھرا گئی ہو گی
نہ جانے ہم کہاں ہوں گے چمن میں یا کہ زنداں میں
گلوں میں ڈھونڈنے والوں نے بُو تیری نہیں پائی
نظر آتا ہے تو مجھکو مگر خارِ مغیلاں میں
حقیقت ایک ہے کردار دو۔ اے انجمن والو
لگی پروانے کے دل کی جلی شمع شبستاں میں
خدا کے واسطے چھوڑو نہیں اب مان بھی جاؤ
تمہاری ہاں سے ہو جائے گا داخل کفر ایماں میں
تری زلفِ رَسَا کی طرح نگہِ شوق تشنہ تھی
یہ دونوں مل کے اُتری ہیں ترے چاہِ زنخداں میں
بہت ممکن ہے میخواروں سے کوئی کر لے توبہ بھی
تبسم اس لئے جاتا ہے اکثر بزمِ رِنداں میں

No comments:

Post a Comment