جان پر کھیل کر ہم وعدہ شکن تک پہنچے
اس کے احسان سے پھر دارورسن تک پہنچے
زندگی موجِ ہوا ہے کہ چلے تو نہ رُکے
لالہ زاروں سے گذرتی ہوئی بَن تک پہنچے
روز بن جاتی ہیں اس ضد میں نئی دیواریں
نالہ بھی اہل قفس کا نہ چمن تک پہنچے
بات اُس چہرے کی محفل میں اگر چھڑ جائے
چاند تاروں سے چلے اور چمن تک پہنچے
اب مسرت کے تصور سے بھی جی ڈرتا ہے
ہم بھی کس مرحلہء رنج و محن تک پہنچے
جان سے جاتے ہیں ہم راہِ وفا پر چل کر
یہ مگر بات نہ اُس غنچہ دہن تک پہنچے
برق کی زد پر تبسم ہیں سیاہ بخت ہمِیں
حوصلہ ہے تو ذرا گورے بدن تک پہنچے
No comments:
Post a Comment