کسی کے ہاتھ میں مینا ہے کوئی جام لیتا ہے
کوئی آنے کا میخانے میں بس الزام لیتا ہے
خراباتِ مغاں میں آجکل رشوت بھی چلتی ہے
اُسے ملتی ہے جس سے چھپ کے ساقی دام لیتا ہے
تعجب ہے کہ جس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ کہتا ہے
جہاں میں زندگی کا لطف مے آشام لیتا ہے
ہوس نے پارہ پارہ کر دیا ہے جس کے دامن کو
سرِمحفل تمہارا نام وہ بدنام لیتا ہے
وہ جس نے خواہشِ بے جا کو ذوقِ عشق سمجھا ہے
وہ پاگل ہر کسی کا بڑھ کے دامن تھام لیتا ہے
محبت میں جو پختہ کار ہیں خاموش رہتے ہیں
مگر ہر خام دعوے سے تمہارا نام لیتا ہے
اُسے اہلِ خرد کی بزم میں آنے کا کیا حق ہے
جو نُورِ صبح کے بدلے سَوادِ شام لیتا ہے
تبسم جس سے اُمیدِ وفا تھی وہ بُتِ کافر
محبت سے عداوت اور جفا کا کام لیتا ہے
کوئی آنے کا میخانے میں بس الزام لیتا ہے
خراباتِ مغاں میں آجکل رشوت بھی چلتی ہے
اُسے ملتی ہے جس سے چھپ کے ساقی دام لیتا ہے
تعجب ہے کہ جس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ کہتا ہے
جہاں میں زندگی کا لطف مے آشام لیتا ہے
ہوس نے پارہ پارہ کر دیا ہے جس کے دامن کو
سرِمحفل تمہارا نام وہ بدنام لیتا ہے
وہ جس نے خواہشِ بے جا کو ذوقِ عشق سمجھا ہے
وہ پاگل ہر کسی کا بڑھ کے دامن تھام لیتا ہے
محبت میں جو پختہ کار ہیں خاموش رہتے ہیں
مگر ہر خام دعوے سے تمہارا نام لیتا ہے
اُسے اہلِ خرد کی بزم میں آنے کا کیا حق ہے
جو نُورِ صبح کے بدلے سَوادِ شام لیتا ہے
تبسم جس سے اُمیدِ وفا تھی وہ بُتِ کافر
محبت سے عداوت اور جفا کا کام لیتا ہے
No comments:
Post a Comment