Pages

Monday, 10 September 2012

لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے Lahoo sey kabhi chehrey ujalney key liyey

لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے
میں جی رہا ہوں اندھیروں کو ٹالنے کے لئے
اتر پڑے ہیں پرندوں کے غول ساحل پر
سفر کا بوجھ سمندر میں ڈالنے کے لئے
سخن لباس پہ ٹھہرا تو جوگیوں نے کہا
کہ آستیں ہے فقط سانپ پالنے کے لئے
میں سوچتا ہوں کبھی میں بھی کوہکن ہوتا
ترے وجود کو پتھر میں ڈھالنے کے لئے
کسے خبر کہ شبوں کا وجود لازم ہے
فضا میں چاند ستارے اچھالنے کے لئے
بہا رہی تھی وہ سیلاب میں جہیز اپنا
بدن کی ڈوبتی کشتی سنبھالنے کے لئے
وہ ماہتاب صفت’ آئینہ جبیں محسن
گلے ملا بھی تو مطلب نکالنے کے لئے

No comments:

Post a Comment