لمحے کسی کی یاد کے آنسو بنا دئے
طوفاں میں حسرتوں کے سفینے بہا دئے
دیکھے نہ کوئی یاد میں آئے ہوئے اُنہیں
ہم نے چراغ اے شبِ ہجراں بجھا دئے
یعنی شبِ فراق گذاری ہے اس طرح
خود جاگے۔ دے کے تھپکیاں ارماں سلا دئے
منظر کوئی نگاہ میں آیا تو کیا کہیں؟
بے چارگی سے کس طرح ہم تلملا دئے
مجھ کو تو خیر بھول کے ہی ہوں گے دن بسر
کیا واقعات سارے کے سارے بھلا دئے
ہمراز نے ہمارے ہی کل بزمِ غیر میں
سب واقعات نام بدل کر سنا دئے
اِس زندگی میں تم پہ کوئی حرف آ نہ جائے
تم نے جو خط لکھے تھے وہ سارے جلا دئے
احباب کی تسلیِ خاطر کے واسطے
ان کے ہر اک سوال پر ہم مسکرا دئے
کس نے نظر ملا کے تبسم بروزِ عید
کھڑکی کے پردے ہاتھ بڑھا کر گرا دئے
No comments:
Post a Comment