Pages

Saturday, 15 September 2012

رازِ پنہاں دل بہ دل سینہ بسینہ آ گیا (منزل و محمِل) Raaz-e-pinhan dil b dil


رازِ پنہاں دل بہ دل سینہ بسینہ آ گیا
اب محبت کا ہمیں بھی سب قرینہ آ گیا
ہم نے دیکھا آگ اور پانی گلے ملنے لگے
جب تیرے گلرنگ گالوں پر پسینہ آ گیا
گھات میں ہر وقت رہتا ہے رقیبِ فتنہ جُو
بات تک کرنے نہ پائےہم۔ کمینہ آ گیا
زندگی میں بارہا ایسا ہوا ہے اتفاق
جب توقع اُس کے ملنے کی رہی نہ آ گیا
یاد ہے آواز دی تھی اُس نے ساحل سے مجھے
پھر خدا جانے بھنور میں کب سفینہ آ گیا
ہائے جس کو تھا مرا محبوب بننے کا جنوں
زندگی بھر میں نے اُس طرح دی نہ آ گیا
جاں لبوں پر تھی تبسم۔ تازہ دم ہم ہو گئے
روح پرور اک صدا آئی مدینہ آ گیا

No comments:

Post a Comment