ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں
اور باہر کے اندھیرے سے کوئی دیکھے تو
اپنے چہرے تھے جو کھڑکی میں جڑے تھے جاناں
مجھ کو تو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
درد کا کھیل فقط لمحہ موجود کا ہے
پچھلی تاریخ سے آغاز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی انداز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی یاد نئی آئے گی
یہ کوئی حل کوئی انداز نہیں ہو سکتا
اب بھی آئی ہے بہار آ کے چلی جائے گی
مجھ کو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
اتفاقاً کبھی میں پیدا ہوا تھا جیسے
جب مری موت بھی آئے گی یونہی آئے گی
اور باہر کے اندھیرے سے کوئی دیکھے تو
اپنے چہرے تھے جو کھڑکی میں جڑے تھے جاناں
مجھ کو تو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
درد کا کھیل فقط لمحہ موجود کا ہے
پچھلی تاریخ سے آغاز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی انداز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی یاد نئی آئے گی
یہ کوئی حل کوئی انداز نہیں ہو سکتا
اب بھی آئی ہے بہار آ کے چلی جائے گی
مجھ کو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
اتفاقاً کبھی میں پیدا ہوا تھا جیسے
جب مری موت بھی آئے گی یونہی آئے گی
No comments:
Post a Comment