عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی
!! درد دنیا میں جب آیا تو دوا بھی آئی
دل کی ہستی سے کیا عشق نے آگاہ مجھے
! دل جب آیا تو دھڑکنے کی صدا بھی آئی
صدقے اُتاریں گے ، اسیرانِ قفس چھوٹے ہیں
!! بجلیاں لے کے نشیمن پہ گھٹا بھی آئی
آپ سوچا ہی کئے ، اُس سے ملوں یا نہ ملوں
!! موت مشتاق کو مٹّی میں مِلا بھی آئی
لو ! مسیحا نے بھی ، اللّھ نے بھی یاد کِیا
! آج بیمار کو ہچکی بھی ، قضا بھی آئی
دیکھ یہ جادہَ ہستی ہے ، سنبھل کر ' فانی'
پیچھے پیچھے وہ دبے پاؤں قضا بھی آئی
فانی بدایوانی
No comments:
Post a Comment