Pages

Wednesday, 11 July 2012

جو گئے دنوں کا ملال ہے Jo gayey dinoon ka malal hai

میرے دشمنوں سے کہو کوئی
کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے
کہ شکست یوں بھی قبول ہے
کبھی حوصلے جو مثال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے حرف حرف کے جسم پر
جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے
مِری شاعری کے جہان کو
کبھی تتلیوں ،کبھی جگنوؤں سے سجائے پھرتے
خیال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی
وہ جو شام شہر وصال میں
کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے
وہ نہیں رہے
جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں
مُجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا
وہ جو فاتحانہ خُمار میں
مِرے سارے خواب نہال تھے
وہ نہیں رہے
کبھی دشت لشکر شام میں
مِرے سُرخ رد مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے
کہ بس اب تو دل کی زباں پر
فقط ایک قصّۂ حال ہے—– جو
نڈھال ہے
جو گئے دنوں کا ملال ہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی

نوشی گیلانی

1 comment:

  1. Jamal Shabbir Mir11 July 2012 at 12:31

    اس تحریر کو پاک فوج سے منسوب کرنا چاہئے۔ان کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

    ReplyDelete